میموری کو کس طرح بہتر بنانے کے لئے

· Uncategorized
Authors
سمرشكت ایک ایسا موضوع ہے جس کے بارے میں ہر کوئی جاننا چاہتا ہے. چاہے طالب علم ہو یا نوكريپےشا شخصیت، گرهي ہو یا بزرگ. آج کی بھاگ دوڑ کے وقت میں ہر کوئی یہی کہتا نظر آتا ہے کہ میری یاداشت کمزور ہے یا جو پڑھتا ہوں یاد نہیں رہتا.

آج کل سمرشكت بڑھانے کے لئے بازار میں طرح – طرح کے پروڈکٹس آتے ہیں. اصل میں کسی کی بھی سمرشكت کمزور نہیں ہوتی، نہ ہی اس پر عمر کا کوئی فرق پڑتا ہے. اس مضمون میں کچھ آسان سے اصول بتائے جا رہے ہیں اگر ان پر عمل کر لیا جائے تو یقینا آپ کی سمرشكت بغیر دوا استعمال کے بڑھ جائے گی اور آپ یہ بھول ہی جائیں گے کہ میری سمرشكت کبھی کمزور تھی.

سب سے پہلے ہم یاد رکھیں کہ ہمارے خیالات میں منفی سوچ نہیں آنا چاہئے، بلکہ سوچ ہمیشہ مثبت ہونا چاہئے. ہم ناول، کوئی بھی کہانی یا فلم یا ڈرامہ وغیرہ دیکھتے ہیں تو ہمیں واقعات سے لے کر کرداروں کے نام، کہانی وغیرہ بھی یاد رہتے ہیں. کبھی – کبھی نغمے بھی یاد رہ جاتے ہیں. آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اصل میں ہم جب فلمز دیکھ رہے ہوتے ہیں یا ناول وغیرہ پڑھ رہے ہوتے ہیں یا کوئی ڈرامہ دیکھ رہے ہوتے ہیں تب ہم اسے یاد نہیں کرتے بس ہماری آنکھوں کے سامنے سے اور ہماری میموری سکرین سے گجارتے جاتے ہیں. کیونکہ ہم اسے یاد نہیں کرتے اور دماغ پر زور نہیں ڈالتے اور بس پڑھتے جاتے ہیں یا صرف دیکھتے جاتے ہیں اور وہ ہمیں یاد ہو جاتا ہے.

جب ہم کوئی واقعہ یا کسی کا نام یاد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمارے ذہن پر دباؤ پڑتا ہے اور جب دماغ پر دباؤ پڑتا ہے تو وہ واقعہ یا کسی کا نام نام یاد نہیں آتا! جیسے ہی ہم اسے یاد کرنا بند کر دیتے ہیں اور دوسرے کام میں لگ جاتے ہیں تو وہ واقعہ ہمیں جلد یاد آ جاتی ہے کیونکہ اس وقت ہم اسے یاد نہیں کرتے.

جبکہ ہمیں کسی کورس کی كتابو کو پڑھتے ہیں تو یا تو ہم رٹتے ہیں یا یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ہمیں پڑھتے وقت یاد نہیں کرنا چاہئے. بس پڑھتے رہنا چاہئے. یاد کرنے کی کوشش ہی ہمیں یاد نہیں ہونے دیتی. جب بھی ہم پڑھنے بیٹھتے ہیں تو ایک یا دو پیرا پڑھ کر کتاب بند کر دیں، تھوڑی دیر آرام کریں پھر جو پڑھا ہے اسے ایک کاپی پر بیک اور ملاے کہ ہم نے جو پڑھا اور لکھا ہے اس میں کتنا میل ہے. آپ حیران رہ جائیں گے کہ تقریبا جو پڑھا تھا وہی لکھا ہے. دھیرے – دھیرے یہی عمل دہراتے رہیں. اس طرح ہم جو پڑھیں گے اسے آسانی سے لکھ کر اپنے یاد سکرین پر اچھی طرح بیٹھا لیں گے. تعلیم کسی بھی وقت، اتارنا، یاد نہ کریں بس پڑھتے جائیں. پھر تھوڑی دیر لیٹ جائیں اور ایک کاپی میں جو پڑھا لکھتے جائیں یہ عمل آپ کو حقائق یاد رکھنے میں معاون ہوگی.

دوسری عمل یہ ہے کہ ہم رات کو سوتے وقت یاد کریں کہ صبح اٹھنے سے لے کر سوتے وقت تک کیا – کیا کیا. کس – کس سے ملے. قسط وار توجہ کرتے جائیں. تقریبا ایک ماہ میں آپ کو سارا واقعات ہوبہو یاد ہو جائے گا.

تیسری عمل خود سمموهن کی ہے. سب سے پہلے ہم ہاتھ – پیر دھو کر رات میں ایک كھشبودار اگربتتي لگا کر بستر پر لیٹ جائیں اور تین بار گہری – گہری سانسیں لیں اور دھیرے – دھیرے چھوڑیں پھر اپنے دونوں پیروں کو ڈھیلا چھوڑ دیں پھر دونوں ہاتھ، سر اور پورے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیں. پھر کہیں میری آنکھوں مےےك سمموهك نیند سماتي جا رہی ہے. ایسا کم سے کم دس بار لوڈ، اتارنا. پھر اپنے آپ کو ہدایت دیں کہ آج جو بھی پڑھا یا لکھا مجھے ہمیشہ زندگی بھر یاد میں رہے گا اور جب بھی میں اسے لکھنا چاہوں گا، لکھ دو یا بتانا چاہوں گا بتا دوں گا. اب سے میری يادداشت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے. ایسا سلسلہ ایک ماہ تک لوڈ، اتارنا پھر دیکھیں کہ آپ سے سمرشكت چمتكارك طور پر بڑھ گئی ہے.

اگر آپ نے مندرجہ بالا قواعد کا خیال رکھا تو آپ یہ کہنا بھول جائیں گے کہ میری یاداشت طاقت کمزور ہے.

کیسے رکھیں یاد امتحان کے دنوں میں
امتحان کے دنوں میں متن یاد رکھنا کسی بہت تھکا دینے والی ورزش سے کم نہیں ہوتا. کئی بار یاد کیا ہوا متن امتحان حال میں گھستے ہی دماغ کی اندھیری گپھاو میں جا کر چھپ جاتا ہے. پورے تین گھنٹے گزر جاتے ہیں، لیکن ہر کوشش ناکام رہتی ہے. جیسے ہی آپ امتحان ہال سے باہر آتے ہیں، تمام سوالات کے جواب ایک – ایک کرکے سامنے آنے لگتے ہیں.

ایسے میں کسی دماغی خلل کو الزام دینا غلط ہے. یاد رکھنے کے لیے صدیوں سے عالم کچھ نہ کچھ نیا تجويج کرتے آئے ہیں. ان نسكھو کو بھی آزمائیں، ہو سکتا ہے کہ اس بار کے امتحان میں آپ بھی بازی مار لے جائیں.

  اس دنیا میں کوئی پرپھےكٹ نہیں ہوتا، کبھی ہو بھی نہیں سکے گا. اس لیے اپنی غلطیوں سے سيكھے. نئی چیزوں کو آزمانے سے نہ ڈرے، کیونکہ نئی چیزوں کے استعمال سے آپ کے دماغ میں کئی نئے خیال بھی آ سکتے ہیں. آپ اپنے دماغ کو حیران ہونے دیجئے.

آپ کے جسم کی طرح آپ کے دماغ کو بھی بہتر کام کرنے کے لئے منظم رہنا ضروری ہے. اس کے لئے کچھ ٹپس دیے جا رہے ہیں. ان سے نہ صرف آپ کا دماغ تیز رفتار سے کام کرنے لگے گا، بلکہ امتحان کے لئے کسی بھی متن کو یاد رکھنا آسان ہو جائے گا.

بڑھائیں دماغ کی طاقت

آپ دماغی ورزش کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں. دماغی ورزش جسمانی ورزش سے بھنا ہوتی ہے.ہمارے ملک میں شطرنج کی ایجاد ہوئی تو اس لئے کہ یہ دماغ کی سب سے مشکل اور زوردار ورزش ہے.

خیر شطرنج تو تمام نہیں کھیلتے ہیں، لیکن كراسبرڈ پجلس یا کمپیوٹر میں موجود گیم سالٹاير کو تو تقریبا تمام پسند کرتے ہیں. آپ ان سے شروعات کر سکتے ہیں. آپ اگر یہ بھی نہیں کرنا چاہتے ہیں تو آسان طریقہ ہے عام سطح کے گنا حصہ یا جوڑ گھٹاو کرنا.

ہفتے میں ایک بار کوئی نظم یا جوک یاد کرنے کی کوشش کریں. اس سے آپ کا دماغ شیپ میں رہے گا اور اس کی طاقت بھی بڑھے گی. ہمیشہ کچھ نیا کرنے کی سوچ رکھیں. ہمیشہ نئے اڈياج کو سامنے آنے دیں. اس کے لئے ایک بچے کی طرح سوچنا ہی کافی ہے.

بچے مثبت توانائی، حیرت احساس اور ہوس سے سوچتے ہیں. اپنے آپ کو دواسوپن دیکھنے دیجئے. اس سے دماغ تيكش ہوگا اور دماغ کی طاقت بھی بڑھے گی. اپنے آپ کو صرف ایک ہی شخص نہ بننے دیں.ایک ہی شخصیت میں بہت سارے شخصیت پیدا کریں. آپ جتنے زیادہ سے زیادہ ہو سکتے ہیں، اتنے طریقوں سے سوچئے.

کوئی غلطی نہ کر بیٹھیں، اس خیال پر لگام دیجئے. اس دنیا میں کوئی پرپھےكٹ نہیں ہوتا، کبھی ہو بھی نہیں سکے گا. اس لیے اپنی غلطیوں سے سيكھے. نئی چیزوں کو آزمانے سے نہ ڈرے، کیونکہ نئی چیزوں کے استعمال سے آپ کے دماغ میں کئی نئے خیال بھی آ سکتے ہیں. آپ اپنے دماغ کو حیران ہونے دیجئے.

اس سے نئی فنی توانائی کا مواصلاتی ہوگا اور آپ جو کر رہے ہوتے ہیں، اس میں اس کا آئینہ دکھائی دینے لگتا ہے. اپنے آپ سے باتیں کریں. ہو سکتا ہے کہ کوئی اس تجویز کو موركھتاپور مان لے، لیکن اس سے بہت چمتكارك نتائج آتے ہیں. اگر آپ کسی چیز کو کھو بیٹھے ہوں تو اسے تلاش کرنے میں یہ ٹیکنالوجی کارگر ثابت ہو سکتی ہے.

کشیدگی آپ کی یاداشت کو کمزور کر سکتا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ آپ کم سے کم تناوگرست رہیں. اس سے آپ کو اپنا دماغ تیز رکھنے میں مدد مل سکتی ہے.

آپ جتنے نام یاد کر سکتے ہیں، اتارنا. ہر نام کے ساتھ اس شخص کے چہرے کو فٹ کرنے کی کوشش کریں. اس سے یقینا آپ کے دماغ کی خاصی اچھی ورزش ہو سکے گی.

ڈپریشن اکثر یاداشت کو کمزور کرتا ہے. اگر گہرے ڈپریشن میں ہوں تو طبی مدد لینے سے نہ ڈرے. ہمیشہ کچھ نیا کرنے کا مطلب ہے روٹين سے ہٹ کر کچھ کریں. اپنی زندگی کو روزانہ کی روٹين سے دور کر لیں.جو بھی دماغ میں نیا آتا ہے، اسے لکھنے کی ادتڈالے. جب بھی پڑھنے سے بور ہو جائیں، کوئی نئی کتاب ہاتھ میں لے لیں. ہو سکتا ہے کہ اس سے آپ کی توجہ بورنگ روٹين سے ہٹ کر الگ ہو جائے.

یاد رکھنے کے لئے ٹپس

کسی بھی بات کو یاد رکھنے کے لیے دماغ اس بات کا مطلب، قیمت اور جواز کی بنیاد پر طے کرتا ہے.دماغ کی ترجیح بھی اسی ترتیب میں کام کرتی ہے.

یاد رکھنے کی سب سے پہلی سیڑھی ہے مطلب جاننا، لہذا کسی بھی بات کو یاد رکھنے سے اس کا مطلب ضرور سمجھئے. اگر معنی ہی سمجھ میں نہیں آیا ہے تو رٹنے کا کوئی مطلب نہیں ہے. اس لئے پہلے جس بات یا متن کو یاد رکھنا ہے، پہلے اس کا مطلب سمجھیے، پھر اس کا اہمیت اور قیمت سمجھیے اس کے بعد آپ کی زندگی میں اس بات کا کیا جواز ہے یہ جانیں.

 کسی بات کے فی آپ کا کیا رویہ ہے، اس سے اس بات کو یاد رکھنے کا براہ راست تعلق ہے. اگر آپ کسی بات کو یاد رکھتے وقت اس کے خلاف مثبت رویہ رکھیں گے تو وہ بات یا متن آپ کو پہلی بار میں ہی یاد ہو جائے گا.

 کسی بھی نئی بات کو سمجھنا آپ کے پہلے سے حاصل معلومات پر انحصار ہے، کیونکہ اس وقت آپ نئی بات کو اس کی کسوٹی پر رکھ کر جوڑتے ہوئے یاد رکھ لیں گے. آپ جتنا بنیادی علم بڑھاتے جائیں گے، اتنا نئے علم کو سمجھنا آسان ہوتا جائے گا. یہی بات یاد رکھنے پر بھی لاگو هوتيهے.

 ترجیحات کی بنیاد پر طے لوڈ، اتارنا

ترجیحات کی بنیاد پر طے کریں کہ پہلے کیا یاد کرنا ضروری ہے. ضرورت پڑنے پر اس کے اور ٹکڑے کر لیں اور پھر یاد لوڈ، اتارنا. دماغ پر سب سے گہرا اور طویل عرصے تک ٹکے رہنے والا اثرات صرف اكرتيو کا ہوتا ہے. اس لئے کسی بھی متن کو یاد کرتے وقت اسكيےك شکل اپنے دماغ میں گڑھ لیں. دماغ میں شکل بن جانے سے یاد رکھنے والا متن ضرورت پڑنے پر فوری ركل کیا جا سکتا ہے.

امتحان کی تیاری

امتحان کا دباؤ کیا ہوتا ہے؟ یہ سوال آپ کسی بھی طالب علم سے کرے، تو اس کے حساب سے دنیا کا سب سے بڑا دباؤ یہی ہے پورے سال محنت کی ہے. پر اب nervous ہو رہے ہیں | پتہ نہیں کیا ہوگا؟

اور اگر یہ بورڈ امتحان ہے، تو کشیدگی ہونا غیر معمولی بات نہیں ہے | لیکن کچھ باتو کا خیال رکھ کر بچے کشیدگی سے بچ سکتے ہیں اور اپنی امتحان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں

کیا کریں طالب علم

* امتحان کے لئے ہدف مقرر کرنا ضروری ہے. اپنی صلاحیت دیکھ کر ہی اپنا ہدف مقرر کریں. ورنہ بعد میں مایوسی ہوگی. اگر آپ 9 ویں کلاس تک 65 پرش پوائنٹس لے کر پاس ہوتے رہے ہیں تو اپنا مقصد بھی 65 سے 75 پرش پوائنٹ کا ہی رکھیں. 85 یا 90 پرش پوائنٹ کا ہدف رکھنے سے آپ بھٹک جائیں گے.

* یاد رہے، مسلسل کئی گھنٹوں تک پڑھ کر کوئی بچہ اچھے نمبر حاصل نہیں کر سکتا. كتابي کیڑا بننے کی ضرورت نہیں. پڑھائی کے ساتھ تھوڑا وقت باقی کاموں کے لئے بھی نکالیں.

* صبح کی سیر کے ساتھ – ساتھ تھوڑا – بہت ورزش اور کھیل کود بھی ضروری ہے. اس سے جسم کو نئی چستي – پھرتي ملتی ہے، جو کہ جسمانی اور ذہنی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے.

* تفریح ہماری زندگی کا ضروری حصہ ہے. امتحان کے دنوں میں تفریح کا وقت گھٹا دیں، لیکن خود کو تفریح کی دنیا سے پوری طرح الگ نہ کریں. تھوڑا وقت نکال کر ہلکا – پھلكا موسیقی، ہلکی – پھلکی کامیڈی فلم یا سیریل ضرور دیکھیں.

* اگر ماں – باپ نے آپ کے سامنے بہت مشکل ہدف رکھ دیا ہے، آپ کو لگتا ہے کہ آپ اسے حاصل نہیں کر سکیں گے، تو ان سے واضح الفاظ میں کہیں کہ آپ کوشش کریں گے لیکن آپ کی صلاحیت سے یہ مقصد بڑا ہے. اگر وہ پھر بھی اسے بار – بار آپ پر تھوپتے ہیں تو اسے ناككا سوال نہ بنائیں. دھےريپوروك اتنا لوڈ، اتارنا، جتنا آپ کر سکتے ہیں. غیر ضروری دباؤ نہ پالے.

* اگر آپ تکلیف میں ہیں یا پھر آپ کو کسی طرح کی گھبراہٹ یا بے چینی ہو رہی ہے تو جلدی ہی گھر کے کسی رکن کو یا پھر قریبی دوست کو بتائیں. اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی بات کوئی نہیں سنے گا تو کسی ہیلپ لائن پر فون کریں. وہ آپ کی رہنمائی کریں گے. امتحان کے دنوں میں بچوں کے لئے خصوصی ہیلپ لائن شروع کی جاتی ہیں. ان کی معلومات تمام اخبارات میں مل جاتی ہے.

 
 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

  1. Knol Author Foundation-KAF
  2. The Memory Guru of India- Research &News
  3. सच्ची कविताएं- भारत के स्मृति गुरु व कवि प्रो एन एल श्रमण
  4. हिन्दी नॉल लेखक फाउंडेशन-Hindi Knol Author Foundation
  5. भारत के स्मृति गुरू-स्मृति के चमत्कार -भाग दो
  6. The Memory Guru of India- A B C of Memory Part IInd
  7. The Memory Guru of India: Periodic Table(आवर्त सारणी)
  8. Memory Guru Quotes
  9. प्रो एन एल श्रमण -मेमोरी गुरु आफ इंडिया के उत्प्रेरक लेख
  10. How to spell (U K Eng ) : The Memory Guru of India
  11. भारत के स्मृति गुरू- स्मृति के चमत्कार
  12. Memory Guru ways to improve your English- THE MEMORY GURU OF INDIA
  13. THE MEMORY GURU OF INDIA-Memory Aid
  14. The Memory Guru of India-1000 Ways to improve memory
  15. THE MEMORY GURU OF INDIA -MEMORY INTRO
  16. विद्या -भारत के स्मृति गुरू प्रो एन एल श्रमण
  17. The Memory Guru of India- Learn Urdu in 2 Days
  18. The Memory Guru of India- Rules of Memory
  19. स्मरण शक्ति कैसे बढ़ायें- भारत के स्मृति गुरू
  20. દિ મેમોરી ગૂરૂ આફ ઇન્ડિયા (The Memory Guru of India)
  21. The Memory Guru of India(عوامل النسيان و مهارات تحسين الذاكرة
  22. The Memory Guru of India- Competitions
  23. THE MEMORY GURU OF INDIA-ZEN MEMORY
  24. THE MEMORY GURU OF INDIA-LEARNING
  25. The Memory Guru of India- A B C of Memory Part I
  26. THE MEMORY GURU OF INDIA-For Aged
  27. THE MEMORY GURU OF INDIA-EXAM TENSION
  28. Medications -The Memory Guru of India
  29. THE MEMORY GURU OF INDIA-SPEED MATH
  30. THE MEMORY GURU OF INDIA-Face Recognition
  31. THE MEMORY GURU OF INDIA-Calandar
  32. THE MEMORY GURU OF INDIA-SPELLINGS
%d bloggers like this: